کاروار: 18؍ستمبر(ایس اؤ نیوز) ہوناور تعلقہ کاسرگوڈ کے ساحل پر پرائیویٹ بندرگاہ کی تعمیر کے خلاف پرامن جدوجہد کرنےو الے ماہی گیروں کے خلاف جھوٹے مقدمات داخل کئے جارہےہیں،پرائیویٹ کمپنی اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے مخالفت کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ان باتوں کا الزام قومی ماہی گیر فیڈریشن کے ریاستی سکریٹری چندرکانت کوچریکر نے لگایا۔
پریس کانفرنس کا انعقاد کرتےہوئے انہوں نے کہاکہ ہم اس طرح کے پس پردہ کاموں کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ یہاں مقامی عوام کے انسانی حقوق کو خود حکومت کمزور کررہی ہے۔ ساحلی علاقوں کا سمندری ساحل حکومت کے مختلف منصوبہ جات کے لئے استعمال ہورہاہے۔ ماہی گیروں کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے، اس کے باوجود حکومت مطمئن ہونے کو تیار نہیں ہے۔
حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ساحل کی روایتی ماہی گیری مکمل ختم ہونے کے درپے ہے، یہاں پولس کے زور سے مقامی لوگوں میں خوف پیدا کرنے کی کوشش کی کیاجارہی ہے، انہوں نے کہا کہ عوامی حقوق کو نظر انداز کرتےہوئے آلودگی پیدا کرنےو الے منصوبہ جات کو جاری کرنا ٹھیک نہیں ہے۔
جدوجہد کا انتباہ : بندرگاہ، سڑک اور ریلوے لائن کی تعمیرات سے متاثرہونےو الوں کی بازآبادکاری کے لئے متبادل انتظام نہیں کیاگیا ہے، مقامی انتظامیہ کی طرف سے حقوق انسانی کو دبانے کی کوشش ہورہی ہے اور ڈرو خوف کا ماحول پیدا کیاجارہاہے، اس لئے ہم ریاستی حکومت اور حزب مخالف سےچاہتے ہیں کہ وہ فوری طورپر معاملےکولےکر مداخلت کریں اور ماہی گیروں کے حقوق کی حفاظت کرنے آگے آئیں۔
انہوں نے کہا کہ مجوزہ پرائیوٹ بندرگاہ کے منصوبے کو لے کر چند شہبات اور سوالات حکومت، کمپنی اور محکمہ بندرگاہ سے پوچھے گئے تھے اوراس کا تحریری جواب مانگا گیا تھا۔ لیکن عوامی مفاد والے معاملے میں کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔انہوں نے انتباہ دیا کہ اسی لئے ضلع بھر میں ماہی گیر اپنا احتجاج سخت کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ ساحلی تنوع سائنس دان پرکاش میستا، ہوناور فرشین بوٹ مالکان سنگھ کے سکریٹری ووین فرنانڈیز، ہوناور تعلقہ کچی مچھلی بیوپاری سنگھ کے صدر گنپتی تانڈیل، ہوناور بندرگاہ مخالف ہوراٹ سمیتی کے محمد کویا ، راجو تانڈیل موجو د تھے۔